Sunday, August 9, 2009

After Baitullah Mehsud....

بیت اللہ محسود(فائل فوٹو)

Perhaps it is not sufficient to eliminate one pawn, a creature of the unholy alliance between Mullah and military in Pakistan. There is a need to kill the Mullah-Military alliance which resulted in the violent transformation of deobandis and wahhabis in Pakistan into illegitimate sipahs, lashkars and jihadi and sectarian groups.

Here is an assessment from not very distant past.

The International Crisis Group in its report entitled 'The State of Sectarianism in Pakistan' (released in April 2005) thus reported:

‘‘Religious militias calling themselves Sipahs, Jaishes and Lashkars cannot exist parallel to the Army...’’

Sectarian terrorists in Pakistan are thriving in an atmosphere of religious intolerance for which its military government is largely to blame. Musharraf repeatedly pledged that he would eradicate religious extremism and sectarianism and transform Pakistan into a moderate Muslim state. In the interests of retaining power, he did the opposite... Instead of empowering liberal, democratic voices, the government co-opted the religious Right and continues to rely on it to counter civilian opposition...

‘‘Even the sporadic efforts to deal with sectarian extremists, such as that (sic) of (Benazir) Bhutto in 1995 and (Nawaz) Sharif in 1997 and 1998, were more thorough than Musharraf’s current policies,’’ the Report concludes after an enumeration of steps that were taken.

‘‘President Musharraf’s reform agenda includes eradicating religious extremism and sectarianism,’’ the Report recalls. ‘‘He has pledged to undo Zia-ul-Haq’s legacy by transforming Pakistan into a moderate Muslim state. However, his performance in the past five years is not dissimilar to that of General Zia, who empowered the clergy to counter his secular, civilian opposition. Under Musharraf, Islamic extremists continue to thrive because of his reliance on the religious Right to retain power. In Pakistan’s chequered history, the mullahs have never been as powerful as now, controlling two of four provincial governments and also influencing national politics through their presence in the National Assembly.’’

Moreover, ‘‘Under Musharraf, Zia’s Islamisation measures, the primary source of religious extremism and sectarian conflict, also remain virtually untouched. And much like the Zia period, madrasas are again the recipients of large public funds, albeit with a different justification. Then, a section of madrasas was rewarded for producing jihadis for Afghanistan. Now they are provided incentives, at least ostensibly, to abandon the jihad.’’ The operative word there is ‘‘ostensibly’’. For the Report documents in detail how neither the madrasas nor the terrorist organisations have been either inconvenienced or deflected in any way. ‘‘Justifying his decision to retain the dual offices of President and Army Chief until 2007,’’ the Report recalls, ‘‘Musharraf said, ‘Pakistan needs unity in order to deal with the internal sources of extremism and to remove the misperception that we are a militant, intolerant society’. His reformist rhetoric remains just that, even as the military’s preferences undermine the few safeguards that exist.’’ Yes, ostensibly, bans were announced by Musharraf. The fact?

The offices of banned organisations have been sealed but most have re-opened or re-located. In fact, the re-possession of these offices has sparked factional fighting among sectarian groups. The infrastructure of banned terrorist groups and thus their capacity to mount terrorist attacks also remains intact, as was evident in the surge in sectarian attacks during 2004...

فرض کرو کہ!

بیت اللہ محسود

بیت اللہ محسود کی یہ تصویر ان کی چند دستیاب تصویروں میں سے ہے

بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود مرگئے تو کیا، نہ مرے تو کیا؟

جو ان سے پہلے اور ان سے بہت بڑے مرگئے تو ان کی موت نے ایسا کیا بدل دیا جو اِن کی موت بدل دے گی؟

بس نپولین کی شکست کی دیر ہے۔ یورپ امن کا دائمی گہوارہ بن جائےگا۔

مسولینی کو مجمع نے چوک میں بکرے کی طرح ٹانگ دیا ہے۔ ہٹلر نے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگالی ہے۔ اب دنیا فاشزم اور نازی ازم سے نجات پاگئی ہے۔

اب خدا نے سٹالن سے جان چھڑوا دی ہے۔ دنیا بھر میں کیمونسٹوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔

اللہ اگر ضیا الحق کو اٹھالے تو پاکستان آئندہ کے لیے فوجی آمریت سے محفوظ ہوجائے گا۔

دیکھو نجیب اللہ کابل کے چوک میں کھمبے سے لٹکا دیا گیا ہے۔اب افغانستان کے پہاڑ سونے کے ہوجائیں گے۔

بس اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے مرنے کی خبر کا انتظار ہے۔ دنیا دھشت گردی سے آزاد اور افغانستان فردوس بر روئے زمیں ہوجائےگا۔

دیکھو صدام حسین مرگیا نا ! اب کسی بھی دن مشرقِ وسطی میں آزادی اور جمہوریت کے جھکڑ چلنا شروع ہوجائیں گے۔

نیک محمد کیا مرا وزیرستان میں طالبان کی کمر ٹوٹ گئی۔ عبداللہ محسود نے خود کو بارود سے اڑا لیا، اب فاٹا میں طالبان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے۔اگر بیت اللہ محسود کے مرنے کی خبر درست ہے تو یوں سمجھو جیسے پاکستانی طالبان کی ماں مرگئی۔

یہ بات اگرچہ سو فیصد درست ہے کہ تاریخ کے بناؤ اور بگاڑ میں فرد کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے لیکن اسں بات کے بعد بات اکثر آگے نہیں بڑھتی۔ دانشور کی دانشوری کو لقوہ مار جاتا ہے۔ کوئی بھی فکری کشکول بدست سیانا، سیمنار باز اور پالیسی ساز پنڈت اس سوال کا سیر حاصل جواب تلاش کرنے یا بتانے میں دلچسپی نہیں رکھتا کہ فرد ماحول پر زیادہ اثرانداز ہوتا ہے یا ماحول فرد کو بناتا اور بگاڑتا ہے۔

ہم میں سے بیشتر ماحول کے کارخانے کی تیار کردہ انسانی مصنوعات کی خوبیاں اور خرابیاں بیان کرنے میں اتنی توانائی لگا دیتے ہیں کہ کارخانے یا اس کے مالک کا تذکرہ آنے تک ہمارے گلے اور زبان شل ہو چکے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اگر کوئی باؤلا فرد کے بناؤ اور بگاڑ میں ماحول کے کردار کے بنیادی سوال کا انگارہ ہاتھ میں اٹھانے کی کوشش کرے تو سرکاری و غیر سرکاری مفادات کے دستر خوانوں سے وہ غوغا اٹھتا ہے کہ یہ سوال ہی ہلاک ہوجاتا ہے۔

ایساجان بوجھ کر کیا جاتا ہے کیونکہ ہم سب تجزیہ بازوں کو خوب خوب علم ہے کہ اگر فرد کے ساتھ ساتھ ماحول کے اچھے برے ہونے کی بات اٹھائی جائے گیا یا بری مصنوعات کی روک تھام کے ساتھ ساتھ کارخانہ بند کرنے کا مطالبہ ہوگا تو پھر ان دانشوروں اور پالیسی سازوں کا روزگار بھی مارا جائے گا کہ جن کی ملازمت ہی یہ ہے کہ انگلی اٹھا کر بتاؤ کہ اصل میں سارا فتور فلاں آدمی کے سبب ہے وہ نہ ہو تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔

فرض کرو کہ جنت نہیں فرض کرو پاؤں تلے دوزخ نہیں اوپر صرف آسمان ہے فرض کرو سب محض آج میں زندہ ہیں فرض کرو دنیا میں کوئی ملک ہی نہیں اور ایسا کچھ مشکل بھی نہیں فرض کرو سب بلائیں ختم ہوئیں اور مذہب بھی نہیں

جان لینن کے گیت سے

ماحول؟ ماحول کو کیا ہوا؟ ماحول تو بہترین ہے۔ بس وہ آدمی غلط ہے۔ وہ نہیں وہ ، اور اس کے بعد وہ اور اس کے بعد وہ! مارو مارو!

جان لینن نے انیس سو اکہتر میں امیجن کے نام سے ایک شہرہ آفاق گیت گایا تھا۔

فرض کرو کہ جنت نہیں

فرض کرو پاؤں تلے دوزخ نہیں

اوپر صرف آسمان ہے

فرض کرو سب محض آج میں زندہ ہیں

فرض کرو دنیا میں کوئی ملک ہی نہیں

اور ایسا کچھ مشکل بھی نہیں

فرض کرو سب بلائیں ختم ہوئیں

اور مذہب بھی نہیں

فرض کرو سب لوگ پرامن ہیں

فرض کرو کوئی ملکیت ہی نہیں

بھوک بونے کی ضرورت ہی نہیں

فرض کرو سب پوری دنیا کے حصے دار ہیں!

ہاں ! تم کہہ سکتے ہو کہ میں خوابوں میں رہتا ہوں

لیکن ایسا میں صرف اکیلا تو نہیں۔ ۔

Imagine(by John Lennon)

1 comment:

  1. just wanted to know what is it that Mehsuds eat? They have the blackest hair and would make a lot of money as Pantene boys